Monday, December 2, 2013

29 November 2013 کی ڈائری

آج صبح  اٹھتے ہی کانوں میں فرغلی صاحب (مصر سے آئے ہوئے استاذ )کی آواز کانوں میں گونج گئی ۔ 
نماز سے فارغ ہوکر میں سوچنے لگا کہ کسی طرح فرغلی صاحب سے ملاقات ہوجائے ،لیکن ان کو اساتذہ کے درمیان گھرا ہوا دیکھ کر صبر کا شربت پینے میں ہی اکتفا کیا ۔
 میرے ذمے کافی کام تھے ۔سب بڑی ذمہ داری یہ تھی  کہ اشرفیہ سے آئے ہو ئے طلبہ کا خیال رکھنا تھا ۔ پتہ چلا کہ وہ لوگ 
 حماد کے ساتھ ہیں تو میں اس جانب سے بے فکرہو گیا ۔ میں رضی بھائی اور طارق بھائی کولے کر چائےپینے کو نکلا۔
وہاں سے فارغ ہوکر اشرفیہ سے آئے ہوئے اساتذہ مفتی بدر عالم ، مولانا زاہد سلامی اور مولانا نعیم صاحبان کے پاس چلا گیا ۔وہ لوگ جاگ رہے تھے ۔ ان کی کچھ ضروریات پوری کر نے کے بعد گفتگو ہوتی رہی ۔اس کے بعد ان کو لے کر فرغلی  دیر  صاحب کے پاس آیا۔ان سے کافی تک باتیں رہیں۔
اور تقریبا ساڑھے آٹھ بجے ان  سب کو حضور داعی اسلام سے ملاقات کے لیے لایا ۔مولانا ضیاء الرحمان صاحب مل گئے اور میں نے ان کو وہیں چھوڑا۔پھر فرغلی صاحب کے پاس آیا اور ان سے میری کافی دیر تک گفتگو ہوئی تب مجھے پتہ چلا کہ میں بھی عربی میں اچھی گفتگو کر سکتا ہوں کیوں میری فہم کے بر خلاف ان کی ساری باتیں مجھے سمجھ میں آ رہی تھی۔    میں بھی ان کے ساتھ توڑ مڑوڑ کر عربی بول رہا تھا۔ مذکر مونث کی تمیز کیے بغیر میری ساری توجہ صرف اس پر تھی کہ کسی طرح اپنی مافی الضمیر سے ان کو آگاہ کردوں۔
اب میں سوچ رہا تھا کہ کاش اس سے پہلے ہی یہ کوشش کر لی ہوتی آج یہ نوبت نہیں آتی۔
  ہمارے مدارس میں یہ ایک بہت بڑی کمی ہے کہ ان میں عربی بال چال کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے اور اگر طلبہ بات کرنا بھی چاہیں تو ایکچھوٹی سی غلطی پر اس طرح مذاق اڑایا جا تا ہے جیسے کوئی مبتدی نہیں بلکہ ایک ادیب بات کر رہا ہو۔
میرے خیال میں بچوں کو ابتدا میں  صحیح غلط ہر طرح کے جملے بولنےکی کوشش کرنی چاہیے کسی کی غلطی پر بالکل توجہ نہ دینی چاہیے۔کیوں کہ میں نے دیکھا کہ بعض جملے خود مصری استاذ صاحب بھی غلط بولتے تھے۔ ایسےموقع پر صرف اتنا خیال رہے کہ سامنے والا ہمارےما فی الضمیر سے آگاہ ہوجائے۔اور بس۔ 


Post a Comment