Thursday, October 6, 2016

Taazya Dari ka Masla


تعزیہ داری اہل سنت کے مراسم کا حصہ ہے نہ ہی معمولات میں سے۔
بلکہ اہل سنت میں بعض حضرات ہی اس کا اہتمام کرتے ہیں وہ بھی وہ لوگ جو اصل فرائض وغیرہ سے کوتاہی برتتے ہیں نہ کہ متقی اور پرہیزگار حضرات۔
ہاں بزرگوں نے اس سلسلے میں نرمی کا رویہ رکھا ہے لہذا اس میں شدت برتنا بھی نہایت غلط ہے۔کیوں کہ تعزیہ داری کرنے والے بہرحال اہل بیت اور امام حسین علیہم السلام سے عقیدت کی بنیاد پر ایسا کرتے ہیں،لہذا ان کی عقیدت کا پاس بھی رکھنا ضروری ہے ساتھ ہی کوشش کی جائے کہ ان کو اظہار عقیدت و محبت کا صحیح طریقہ بتایا جائے۔
اگر واقعی حقیقی محبت ہے تو محبوب کی اطاعت ہونی چاہیے نہ کہ خرافات میں مبتلا رہنا چاہیے۔
بہرحال اہل علم کو ان سے دور ہی رہنا بہتر بلکہ لازمی ہے۔ورنہ جہلا دلیل پکڑیں گے۔
اللہ ہمیں اعتدال پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
✍ناظم اشرف مصباحی

Tuesday, January 12, 2016

Dreams make reality

Dreams make reality.’’خواب حقیقت کی تعمیر کرتے ہیں‘‘ ایک مقولہ ہے جس پر حضرت شیخ کو کامل یقین ہے- اسی یقین کے تحت انہوں نے ایک خواب سجایا ہے، اور وہ خواب ہے شریعت وطریقت، مدرسہ و خانقاہ، جدید و قدیم ، تحقیق و تفکیر، جذب وسلوک، قال وحال اور دعوت واصلاح کے اجتماع اور جسم و روح کے علاج کا- اللہ کریم بندے کے گمان کے قریب ہے انا عند ظن عبدی بی پر انہیں کامل ایمان ہے اور وہ اسی ایمان کے سہارے اپنے مشن میں لگے ہوئے ہیں-سفر جاری ہے، لوگ آرہے ہیں اور کارواں بڑھتا جارہا ہے- 

Monday, November 16, 2015

سادگی پگلوں کی دیکھ ، غیروں کی عیاری بھی دیکھ

 ،،
پشاور میں بچوں کا قتلِ عام ھوا تو ،،، دلیل تھی کیا امریکہ نے بچے نہیں مارے،،،،،،،،،،،،،،،
فرانس میں نہتے بے گناہ مرد بچے عورتیں مارے تو دلیل ھے ،، کیا برما میں مسلمان نہیں مرے تھے،،
سبحان اللہ ،،،،،،،،،،،،، اس کا مطلب ھے کہ اگر یہ دلیل دینے والوں کا بس چلے تو یہ بھی یہی کام کر گزریں گے ،،،،،،،،،،،،،،،،،
کیا حضرت بلالؓ ، حضرت یاسرؓ اور سمیہؓ پہ مظالم نہیں ھوئے تھے ،،
پھر کیا اس کے نتیجے میں اللہ کے رسول ﷺ نے کوئی انڈر گراؤنڈ قاتل گروہ تیار کیا تھا جو مکے والوں کے مردوں اور عورتوں کو قتل کرتا ،،،،،،،،،،،،،،،
اگر حضورﷺ بھی یہی پالیسی اختیار فرماتے تو شاید اس گروہ کو مکے میں ھی کچل دیا جاتا اور آج دنیا اسلام کے نام سے بھی واقف نہ ھوتی ،،، اس کے برعکس اللہ نے حکم دیا کہ ھاتھوں کو باندھ کر رکھو اور نماز کو قائم رکھو ،، عبداللہ ابن مسعودؓ نے ایک کافر کو جوابی تھپڑ دے مارا تو اللہ کے رسولﷺ نے ان پر غصہ کیا اور فرمایا کہ اگر صبر نہیں کر سکتے تو اپنے قبیلے میں چلے جاؤ ،جب اللہ اسلام کو غلبہ دے گا تو اس وقت آ جانا ،،،
ھمارے پاس دعوت ھے کافر کے پاس تلوار ھے ،، ھماری دعوت ان کی تلوار سے طاقتور ھے ،، جبکہ ھماری تلوار ان کی تلوار سے کمزور ھے ، وہ تو یہ چاھتے ھیں کہ ھمیں گھسیٹ کر اس میدان میں لے جائیں جہاں وہ طاقتور ھیں یعنی جنگ کا میدان اور جنگی اسلحہ،،، جبکہ ھمیں چاھئے کہ ھم دعوت کے لئے سازگار ماحول پیدا کریں اور انسانیت کے ساتھ انٹرایکشن بڑھائیں کیونکہ یہی انسانیت ھماری مارکیٹ ھے جہاں ھم نے اپنی دعوت کو بیچنا ھے ،ھم اپنے گاھک ھی مار دیں گے تو کیا کٹے ھوئے سروں کو دعوت پیش کریں گے ؟
ھماری دعوت کی طاقت کا یہ عالم ھے کہ اللہ کے رسولﷺ نے حدیبیہ کے میدان میں صرف اس شرط پر کہ مجھے تبلیغ کا موقع دے دو لکھا ھوا محمد رسول اللہ ،اپنے انگوٹھے سے مٹا کر محمد بن عبداللہ لکھا تھا ، اور صحابہؓ کی مخالفت اور عمر فاروق جیسے مدبر کے دباؤ کے باوجود آپ نے ایک ھی جملہ کہا ،،میں اللہ کا رسول ھوں اور مجھ پر صرف اللہ کا حکم ماننا فرض ھے ،،
اللہ پاک نے کفار کی طرف سے مسلمانوں کو تبلیغ کی اجازت دینے کو فتحِ مبین قرار دیا ،، نتیجہ یہ نکلا کہ وہ جو 1400 تھے دو سال بعد 10000 کی تعداد میں مکہ میں فاتحانہ داخل ھوئے ، مسلمان اپنی دعوت اور اپنی آبادی کی وجہ سے یورپ کے کئ ممالک کے لئے ایک سیریس مسئلہ بن گئے تھے ، وہ خوفزدہ تھے کہ آئندہ دس سال میں جمہوری عمل کے نتیجے میں اسلامک اسٹیٹ آف امریکہ نہ بن جائے ،کیونکہ مسجد عمر ابن الخطاب کا دروازہ ایک دفعہ کھل کر بند ھوتا تھا تو ایک امریکی مسلمان ھو چکا ھوتا تھا ،،،،،،،،
پھر یہود نے وہ چال چلی جس کے سامنے اللہ پاک کے فرمان کے مطابق پہاڑ بھی اپنی جگہ چھوڑ دیتے ھیں ،، و ان کان مکرھم لتزول منہ الجبال " پہلے اسامہ اینڈ کمپنی کو ٹریپ کیا گیا یہود نے انہیں ھر طرح سے سہولیات فراھم کیں اسکینرز سے اسلحے سمیت نکالا ، اپنے اسکولوں میں ان کو پائلٹس کی تربیت دی اور پھر نائن الیون کرا کر امریکی رائے عامہ کو مخالف کیا ،، اور افغانستان ، عراق ،لیبیا جیسے ممالک کا قلع قمع کیا جو اسرائیل کے لئے خطرہ تھے ،، کشمیر کے جہاد کو سبوتاژ کیا ،، اب جبکہ ان کے عوام کی آنکھیں دوبارہ کھل رھی تھیں اور وہ آوازیں بلند ھو رھی تھیں جن میں یہود کا کردار واضح کرنے کے لئے کمیٹی بنانے پر زور دیا جا رھا تھا ،،
اس پسِ منظر میں داعش کو ایجاد کیا گیا ، مذھبی جنونیوں کو دوبارہ ٹریپ کیا گیا کہ بس تمہاری خلافت قائم ھوئی کہ ھوئی ،، اب شام اور یمن تباھی کا گڑھ بن گئے جبکہ لبنان اور ایران کو مصالحہ لگا کر رکھ لیا گیا تا کہ ذرا نمک ٹھیک طرح سے دھنس جائے تو پھر فرائی کریں گے ،، ایجنسیاں اپنے وسیع تر مفاد مین پالیسی کے طور پر عوام پر حملے کرنا یا کرانا اور اپنے بڑے مقاصد کے لئے چھوٹے مقاصد کو بطور چارہ قربان کرنے جیسی حرکتیں کرتی آئی ھیں ،، امریکہ نے دوسری جنگِ عظیم میں اپنی مداخلت کو جائز بنانے کے لئے خود موقع فراھم کیا تھا کہ جاپان اس پر حملہ کرے ،، بلکہ بعض معلومات کے مطابق وہ حملہ خود ھی کرایا گیا تھا ،،
مگر اس سب کا نتیجہ ھمیشہ اسلام کی بدنامی کی صورت نکلتا ھے ،، یہ جنونی لمبی سوچ کے مالک نہیں ھوتے ،،بندے مارنے سے نہ ملک فتح ھوتے ھیں اور نہ ھی ملک چلائے جا سکتے ھیں ،، فرانس کا کیا گیا ھے ؟ اتنے بندے تو ھمارے یہاں ایک حادثے میں مارے جاتے ھیں ،، چاھے وہ فیکٹری کا ھو یا جہاز کا ،، مگر اسے حاصل بہت کچھ ھو گیا ھے ،، جس کا نتیجہ بہت جلد نکلے گا ،، شام اور لبنان فرنس کی نوآبادیاں یعنی داشتائیں تھیں ،، وہ انہیں امریکی ھاتھ میں نہیں جانے دینا چاھتا ،مگر جنگ میں جانے کے لئے اسے ایک طاقتور جواز کی ضرورت تھی ،جس کے لئے درجن بھر پاگل اسے مل گئے ،،
نامعلوم رائٹر

جہاں جہاں وہ گیے


 ملک عزیز کے موجودہ وزیر اعظم کے ملکی و بیرونی ملکی دوروں کے مابعد رونما ہونے والے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ واقعی “پنوتی" ہوتے ہیں جس کے گناہوں کا وبال ان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے. مودی کے دامن میں "نسل کشی" کے گناہ عظیم کا ایسا داغ ہے جو اسے فرعون ، نمرود، چنگیز اور ہٹلر کے صف میں کھڑا کرنے کے لیے کافی ہے. یہی وجہ ہے کہ گناہوں کا یہ وبال وہ اپنے ساتھ ساتھ لیے پھر تے ہیں. مثلا، وزارت کے بعد پہلا دورہ کشمیر ........ پورا مقبوضہ کشمیر بد ترین سیلاب کا شکار ہوگیا.
آسٹریلیا گیے.......وزیر اعظم ٹونی ایبٹ اپنی ہی پارٹی سے بے دخل کر دیے گیے.
 کینیڈا گیے.........اسٹیفن ہارپر کا دس سالہ اقتدار کا تختہ پلٹ گیا،
غریب ملک نیپال گیے........ خوفناک زلزلہ نے نیپال کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا،
 چین گیے ........ وہاں کی معیشت زوال پزیر ہوگئی، متحدہ عرب امارات گیے.......سلطان کا جوان بیٹا داعی اجل کو لبیک کہ دیا،      جر منی گیے.........کار بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی “واکس ویگن“  پر سب سے بڑی دھوکہ باز کمپنی ہونے کی چھاپ لگ گئی،
آخر میں بہار آئے.......چالیس خطابات کیے..... پارٹی چالیس سے بھی کم سیٹوں میں سمٹ گئی،
دورہ یوپ میں مصروف ہیں.......... پیرس کے داعش حملے سے پورا یورپ دھل اٹھا. اب   ع ،
 آگے آگے دیکھیے ہوتاہے کیا؟ اس موقع پر بغیر کسی تبصرہ کے  سعدی شیرازی کا یہ شعر

ماری تو کہ ہر کرا بہ بینی بزنی یا بوم! کہ ہر کجا نشینی بہ کنی


✏انصار احمد مصباحی✏
      14/11/2015

Tuesday, November 3, 2015

کمزور ایمان

صبح ۵/ بجکر ۱۰ منٹ پر الارم بج اٹھا.نیند کی لذت اپنے شباب پر تھی. الارم کی مسلسل آواز نیند میں خلل پیدا کررہی تھی.الارم بند کیا پھر نیند کے مزے لوٹنے لگا اتنے میں پھر الام کی گھنٹی بجی. اس وقت یہ مسلسل آواز بہت بری لگ رہی تھی. مرتا کیا نہ کرتا اٹھنا ہی پڑا کیوں کہ نماز پڑھانی تھی.
وضو کرنے کے بعد جب میں بیٹھا تو اپنی تھوڑی دیر پہلے کی حالت کے بارے میں سوچنے لگا کہ اس وقت اٹھنے میں کس قدر تکلیف محسوس کررہا تھا اب کس قدر نشاط ہے!
پھر خیالات کا سلسلہ ایک الگ رخ اختیار کرگیا.میں سوچنے لگا کہ مجھ پر امامت کی ذمہ داری تھی اس لیے اٹھ گیا.  تو کیا اگر یہ ذمہ داری نہ ہوتی تو نہ اٹھ پاتا؟
کیا واقعی یہ حادثہ آج پیش آجاتا حالاں کہ آج کئی سالوں سے سفر میں وہ بھی کبھی کبھی کے علاوہ کوئی نماز قضا نہیں ہوئی ؟
پھر بھی کیا ایسا ہوسکتا تھا کہ اگر ذمہ داری نہ ہوتی تو نماز قضا ہوجاتی؟
لیکن نیند کی وہ غفلت بتا رہی تھی کہ ایسا واقعہ بھی پیش آسکتا تھا.خدا نہ کرے کہ ایسا کبھی ہو.
آج مجھے امامت کی ذمہ داری کی اہمیت مزید واضح ہوگئی کہ کم از کم اس بہانے اپنے فرض کی ادائیگی تو ہوجاتی ہے.
لیکن ساتھ ہی اپنی بے چارگی اور ایمانی کمزوری کا بھی احساس ہوا  کہ اب تک ایمان اتنا بھی  مضبوط نہیں ہو سکا کہ سالوں کی ممارست کے باوجود صرف اللہ کے خوف سے نماز کے لیے اٹھ سکیں.
پھر آج جو ایمان ہمیں نماز کے لیے نہیں اٹھا سکتا اور کو کمزور ایمان ہمیں مسجد تک نہیں لے جا سکتا .کیا ایسا کمزور ایمان ہمیں جنت تک لے جا سکے گا ؟؟؟

ناظم اشرف مصباحی
۲۹/ اکتوبر ۲۰۱۵ ء 

پرواز خیال ( ذاتی تجربات اور غور و فکر کا نچوڑ)




"جس اقدام کے پیچھے مضبوط اور فولادی قوت ارادی نہ ہو. اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی بھر بھری زمین پر عمارت تعمیرکرنے کی کوشش کی جائے.جسے کبھی نہ کبھی منہدم ہونا ہی ہے.یاتو تعمیر سے پہلے ہی ہوا کا ایک ادنی سا جھونکا اس کی حقیقت کھول دیتا ہے .یا عمارت کھڑی کردینے کے بعد اسے زمین بوس ہونا ہے."


"انسان جب ایسے شخص کے ساتھ ہو جس کے پاس ایسا عہدہ یا حیثیت یا صلاحیت ہو جو اس کے پاس نہیں ہے.اگر وہ انسان احساس کمتری کا شکار ہو تو اس شخص سے بدگمان ہوجاتا ہے اور ہر چھوٹی چھوٹی بات میں اسے لگتا ہے کہ سامنے والا شخص اپنا عہدہ/حیثیت/صلاحیت استعمال کررہا ہے."اس وقت وہ لاشعوری طور پر احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے.

انسان جب کسی عمل یا قول سے کوئی نظریہ قائم کرتا ہے اگر وہ نظریہ اس کی سابقہ زندگی یا طرزفکر کے موافق ہو تو وہ اس پر مطمئن ہوجاتا ہے. پھر اگر کسی کی تائید بھی حاصل ہوجائے تو وہ اس پر جم جاتا ہے.اب چاہے خود اس عمل کو انجام دینے والا یا اس قول کا قائل الگ معنی بیان کرے تو حق واضح ہونے کے بعد بھی اپنے سابقہ قول سے دست بردار ہونا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے.
( اگلی امتوں پر جو عذاب آئے وہ اسی انکاری کیفیت کے بعد آئے تھے کہ انبیائے کرام کی جانب سے حق واضح کردینے کے بعد بھی کفر پر جمے رہے.)

ہماری جماعت میں ایک عام بیماری پائی گئی ہے کہ ایک شخص کسی قول سے ایک غلط معنی اخذ کرتا ہے.اب خودقائل اس کی وضاحت کرتا ہے کہ "میری مراد یہ تھی" لیکن وہ کہتا ہے" نہیں آپ نے یہ کہا" قائل پھر کہتا ہے " لیکن میری مراد یہ ہے" وہ پھر کہتا ہے " نہیں آپ نے یہ کہا،فلاں اس پر گواہ ہے." قائل جواب دیتا ہے کہ: " وہ تو ٹھیک ہے لیکن ان الفاظ سے میری مراد یہ ہے اور اس پر دلیل یہ ہے،اس کی وجہ یہ ہے." وہ شخص پھر کہتا ہے: "لیکن آپ نے یہ کہا ہے اور اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے"  ھلم جری......

ناظم اشرف مصباحی
۱/ نومبر ۲۰۱۵ ء بروز اتوار

Sunday, February 8, 2015

دور حاضر میں سیرت نبیوی کا ایک نمونہ

۸؍فروری  ۲۰۱۵ء
آج صبح سے حضور داعی اسلام سے ملاقات کی خواہش دل میں بے دار تھی لیکن ملاقات نہ ہوسکی۔ مجلس کا انتظار کیا لیکن مجلس منعقد نہیں ہوئی۔
ساڑھے باہ بجے جب تجوید و قرأت کا مسابقہ ختم  ہوا  اور دستر خوان بچھایا گیا تو میں غسل کرنے چلا گیا اور کھانا نہ کھا سکا۔
غسل سے فارغ ہونے کے بعد میں اکیڈمی کے دفتر میں آیا۔ اتنے میں میرے کانوں میں میاں حضور کی آواز آئی۔میاں حضور کچھ فرمارہے تھے۔میں فوراً باہر نکلا میاں حضور  فرمارہے تھے کہ کہیں پانی گر رہا ہے کیا؟ کہیں پانی گر رہا ہے کیا؟ یہ فرماتے ہوئے آپ وضو خانے کی طرف جارہے تھے۔پانی کے  گرنے کی آواز تیز آرہی تھی۔پتہ چلا کہ وضو خانے کے اوپر کی ٹنکی بھر چکی تھی اس لیے پانی  زیادہ ہو کرگر رہا تھا۔مجھے دیکھتے ہی آپ نے فرمایا کہ بیٹا  دیکھو ذرا موٹر بند کردو میں دوڑتا ہو اگیا اور موٹر بند کردیا۔میاں حضور جدید ہاسٹل کی طرف چل دیےاور میں باورچی خانے کی طرف  ،تاکہ جاکر کھانا  کھا لوں۔میں سوچ رہا تھا کہ دیکھو بندہ کس قدر چاق و چوبند رہتا ہے  ،اگر اس وقت نہ آتے تو پتہ نہیں کب تک پانی بہتا رہتا۔ میں باورچی خانہ پہنچ گیا۔تھوڑی دیر بعد دیکھا کہ  میاں حضور بھی تشریف لا رہے ہیں۔
میرے دل میں خوف پیدا ہو اکہ کہیں میاں حضور پوچھ نہ لیں کہ اب تک کیا کر رہے تھے ؟ سب ساتھ کھا نا  کیوں نہ کھایا؟
علامہ صاحب بھی ساتھ  تھے ۔ نزدیک آئے۔  اویس بھائی سے پوچھ گچھ کی، چند مشورے دیے اور چل دئیے۔
کافی دور چلے گئے    ۔دیکھا کہ پھر واپس آرہے ہیں ۔ قریب آئے تو اویس بھائی سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ :
بیٹا اویس! ارہر دال اور گوشت کو ملا کر اگر دالچہ بنایا جائے  تو بہت مزیدار بنتا ہے۔ میں نے ممبئی میں کھا یا تو بہت اچھا لگا۔ کسی دن یہی بنائو ۔اویس بھائی نے کہا کہ جی حضور اس جمعہ کو  بنادیتے ہیں۔میاں حضور چلے گئے۔
جانے کے بعد طالب نامی ایک طالب علم جو درجہ سادسہ میں پڑھ رہے ہیں اور اس وقت میرے ساتھ  کھانا کھا رہے تھے، نے کہا کہ مولانا صاحب دیکھا آپ نے ؟ اگر میاں حضور چاہتے تو  جہاں تک گئے تھے وہیں سے   کسی  سے کہلوا دیتے کہ کہ جائو اویس کو جاکر یہ بات بتا دو۔ لیکن اتنی چھوٹی سی بات کہنے کے لیے اتنی دور سے خود چل کر آئے ۔حالاں کہ علامہ صاحب بھی ساتھ ہی تھے اگر چاہتے تو انہیں کو دوڑا دیتے لیکن  ایسا نہیں کیا ؟

میں نے کہا ہاں طالب بھائی! ان کی ہر اداسے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

Thursday, February 5, 2015

Awaaz Dil ke taron ki ٓ دل کے تاروں کی آواز

۵؍ فروری ۲۰۱۵ء بروز جمعرات:
آج میاں حضور مد ظلہ ممبئی سے تشریف لائے۔ دل بہت بیتاب تھا ان سے ملنے کے لیے ۔ملاقات کو کافی دن جو ہوگئے تھے ۔جب ممبئی گئے تھے تب بھی ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔اور آج جب آئے تب بھی نہیں دیکھ سکے۔
بہر حال عصر بعد دیدار کیا،چہرے میںوہی تازگی، وہی چمک ،وہی دمک بلکہ آج حسن میں اضافہ ہی تھا ۔بندے کو جب بھی دیکھا زیادہ اور زیادہ کے مصداق پایا ۔عاشقوں کے جھرمٹ میں بہت پیارے لگ رہے تھے ۔دل کر رہا تھا کہ جاکر پیشانی چوم لوں ،لیکن اب تو دل کو قابو میں رکھنے کی عادت  سی ہو گئی ہے۔
تقریبا دس منٹ کھڑے کھڑے مجلس ہوئی ،روز کی طرح آج بھی اپنی ذکاوت اور اعلی فکر و خیال کے موتی لٹا رہے تھے۔میں آج بھی سوچتا ہوں کہ وہ دن تھا جب میں ان کو جانتا بھی نہیں تھا  اور ایک آج دن ہے جس کی آواز سدننے کو دل ترستا رہتا ہے۔کتنا اچھا لگتا ہے جب وہ بولتے ہیں، کتنا اچھا لگتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں ۔ کتنا اچھا لگتا ہے جب وہ چلتے ہیں ۔کتنے بھلے لگتے ہیں وہ جب وہ مسکراتے ہیں ۔کیوں صرف  انہیں کو دیکھنے کا دل کرتا ہے ؟ کیوں صرف ان کی باتیں کرنے کی خواہش ہوتی ہے ؟ کیا ہے بنے میں ؟ کیسی کشش ہے ان میں ؟ دنیا  میں اور بھی لوگ تو ہیں لیکن ان سے اس طرح کا تعلق کیوں نہیں ہے؟ ہاں ازہری صاحب بھی تو ہیں جن کے پاس بیٹھنے سے دل کو سکون محسوس ہوتا ہے ۔لیکن  یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ ایسا صرف اس لیے ہے کہ وہ میاں حضور کے بہت نزدیک ہیں ْمیاں کے طیقے کے بہت قریب ہیں۔ہاں ہاں اسی لیے صرف اسی لیے۔
کیوں یہ بندہ اتنا اچھا لگتا ہے مجھے ؟کیا مجھے ان محبت ہوگئی ہے؟َ کا اسی کا نا م محبت ہے ؟ اگر ہاں تو اقرار!, سو بار اقرار کہ میں ان سے محبت کرتا ہوں ۔میں اعلان کرتا ہوں کہ ہاں ہاں مجھے ان سے محبت ہوگئی ہے۔
سرکار میاں حضور ! مھجے آپ سے محبت ہو گئی ہے۔I Love You Sarkaar I Love Yove  سیکڑوں بار آئی لو یو۔

میاں حضور اس وقت بڑے اساتذہ کے ساتھ میٹنگ فرمارہے ہیں۔ مصر کے وائس چانسلر جو آ رہے ہیں ۔۱۲ فروری کو یوم غزالی کے موقعے پر تشریف آوری ہو رہی ہے ان کی ۔ اس لیے سبھی  اس پروگرام کی تیاری میں مصروف ہیں۔اور میں اکیڈمی میں بیٹھے ان کی یادوں میں مصروف ہوں۔

Monday, September 22, 2014

حیات مرشد کا ایک انوکھا واقعہ


29 oct 2013  :
دعوہ والے کمرے کے بغل میں جس میں اب حماد بھائی رہتے ہیں ۔ سرکار میاںحضور تشریف لائے اور وہیں مجلس شروع ہو گئی۔
گفتگو کے دوران حضور دعی اسلام نے فرمایا کہ:
میں آئینہ نہیں دیکھتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ جب میں آئینے کے سامنے کھڑا ہوا تو دیکھا کہ آئینہ بالکل صاف ہے ۔اس میں کوئی عکس نہیں ہے۔میں فورا اس کے سامنے سے ہٹا اور اس دن کے بعد سے آئینے کے سامنے کھڑا نہ ہوا،
اس کا مطلب کیا ہوا ہمیں کچھ سمجھ میں نہ آیا۔
اس مجلس میں ہمارے ساتھ قاری شمس الدین صاحب کے پاس آئے ہوئے مفتی صاحب ،ہماری جماعت کے تابش بھائی اور بھی چند لوگ موجود تھے۔

اختلافات فطرت کا تقاضہ ہیں


اختلاف فطرت کا تقاضہ ہے ،اس کے بغیر نہ یہ دنیامکمل ہوسکتی ہے اور نہ زندگی کا کوئی لمحہ گذارا جا سکتا ہے۔رات و دن ،صبح وشام کی شکل میں اوقات کا اختلاف ،ٹھنڈی،گرمی،برسات اور بہار کی صورت میں موسموں کا اختلاف ۔ہاتھ ،پیر ،ناک،کان،آنکھ اور سر کی صورت میں اعضا کا اختلاف، پھر ان میں سے ہر ایک کے کام کرنے میں اختلاف،حتی کہ ایک ہی ہاتھ اور ایک ہی پیر کی انگلیوں کی سائز میں اختلاف،چاول،سبزی،گوشت ،مچھلی،تیل ،پانی اوردودھ کی شکل میں غذاؤں کا اختلاف،پھر ان میں سے ہر ایک کے اقسام ،نوعیت اور ذائقوں میں اختلاف۔قبیلہ ،زبان،رنگ و نسل اور حسب و نسب کے اعتبار سے انسانوں کا اختلاف۔باپ ،بیٹا،ماں بیٹی،میاں ،بیوی اور دادا ،دادی کے نام سے رشتوں میں اختلاف۔خوش اخلاق،بد اخلاق،مزاحیہ ،سنجیدہ ،ذکی و غبی ہونے میں مزاج اورذہانت کا اختلاف۔ایک ہی چھت کے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی فکر و نظر اور پسند و ناپسند میں اختلاف۔حتی کہ اپنے ہی نطفے سے پیدا ہونے والے بیٹے کی رائے میں اپنے والد کی رائے سے اختلاف ۔یہ وہ مثالیں ہیں جن کا ہم صبح و شام مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔جن کی وجہ سے کائنات کی بوقلمونیاں اورزندگی کی یہ رنگینیاں ودل فریبیاں باقی ہیں۔زندگی کے ہر شعبے میں عروج وارتقااور یہ تخلیقات وایجادات انہیں اختلافات کی مرہون منت ہیں۔

Tuesday, December 3, 2013

زندگی کے سہانے لمحے

آج نماز فجر سے فارغ ہوا تو ذہن میں سب سے پہلے جو بات آئی وی یہ تھی کہ شیخ جامعہ میں موجود نہیں ہیں۔
ایک عجیب سی کمی محسوس ہونے لگی۔
دل گھبرا نے لگا۔
کہ سرکار جامعہ میں موجود نہیں ہیں۔
 اس کیفیت کا اثر یہ ہوا کہ آج بعد فجر میں سو نہ سکا۔
شیخ کا خیال ذہن میں بسائے 
سست قدموں کے ساتھ 
دعا میں شامل ہوا
صبح کی دعا 
جو دوسرے مدارس میں سلام کے نام سے جانا جاتا ہے۔
دراصل تمام مدارس اسلامیہ میں کلاس کے آغاز سے پہلے تمام طلبہ اکٹھا ہوکر سلام پڑھتے  ہیں
لیکن جامعہ عارفیہ میں دعا پڑھی جاتی ہے
جس کو شیخ داعی اسلام مد ظلہ نے رقم فرمایا ہے۔
جس کا مطلع یہ ہے
      الف سے اللہ اسم ذات ہے                 ب سے باقی اس کی صفات ہے                                 
اور مقطہ یہ ہے 
 ی سے یاور اللہ اللہ                    شیخ  سعید احسان اللہ                                  
 مغموم حالت میں کلاس مکمل کیا تو پتہ چلا کہ شیخ ساڑھے دس بجے تک واپس تشریف لا رہے ہیں تو دل باغ باغ ہوگیا۔
خوشی خوشی میں گیٹ پر جاکر انتظار کر نے لگا
وہیں شیخ کے خلیفہ حضرت مولوی صاحب بھی موجود تھے 
انہوں نے کافی اچھی باتیں بتائیں
مختصر میں ایسا  درس دیا کہ ایمان میں واقعی تازگی محسوس کی 
اور ایکعجب کیفیت طاری ہو گئی
موصوف کا حال یہی ہے 
کہ جب بھی کوئی بات کہتے 

ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ

ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﻭﺡ ﺳﮯ ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺡ
ﺗﺐ ﮨﯽ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺍﺳﮯ ﺑﻐﯿﺮ
ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﻠﮯ ۔ 

 
ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺁﭖ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ
ﻓﻼﮞ ﭼﯿﺰ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮍﯼ
ﺭﺍﺣﺖ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﭼﯿﺰ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﺁﭖ ﮐﻮ ﻭﯾﺴﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﻠﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ
ﺩﻥ ﮐﺎ ﻧﺸﮧ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ
ﺗﻌﻠﻖ ﻧﻔﺲ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺲ ﺍﯾﺴﮯ
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ
ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻣﯿﮟ
ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ۔ .
ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﻗﺎﻧﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ
ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﮌﺍ
ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ
ﻭﮦ ﻋﺬﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ۔

 
ﺳﭽﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻻﺯﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ
ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﮯ ﻣﻠﮯ ۔
ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺁﭖ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻮﻝ ﺳﯿﭧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ
ﮐﻢ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺍﺱ ﺩﺭﺟﮯ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﻮﮞ
ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ
ﺁﭖ ﭘﺮ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ
ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﻮ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺭﺍﺣﺘﯿﮟ
ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺭﺗﯿﮟ ، ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ
ﺧﻮﺷﺒﻮ ۔ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﯽ ﻋﻨﺎﯾﺎﺕ ، ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﯽ
ﻗﺪﺭ ﺩﺍﻧﯿﺎﮞ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺁﭖ ﺍﻧﺠﻮﺍﺋﮯ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﺮ ﭘﺎﺗﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ
ﮨﭙﻨﺎﭨﺎﺋﺰ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﺱ
ﺩﺭﺟﮯ ﭘﺮ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭼﯿﺰ ﻣﺠﮭﮯ
ﻧﮧ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺷﯽ
ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ۔ 

 
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻋﺰﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ
ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻧﯿﮏ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻋﻄﺎ
ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﭽﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﻧﺼﯿﺐ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ

 
ﺁﻣﯿﻦ

Monday, December 2, 2013

29 November 2013 کی ڈائری

آج صبح  اٹھتے ہی کانوں میں فرغلی صاحب (مصر سے آئے ہوئے استاذ )کی آواز کانوں میں گونج گئی ۔ 
نماز سے فارغ ہوکر میں سوچنے لگا کہ کسی طرح فرغلی صاحب سے ملاقات ہوجائے ،لیکن ان کو اساتذہ کے درمیان گھرا ہوا دیکھ کر صبر کا شربت پینے میں ہی اکتفا کیا ۔
 میرے ذمے کافی کام تھے ۔سب بڑی ذمہ داری یہ تھی  کہ اشرفیہ سے آئے ہو ئے طلبہ کا خیال رکھنا تھا ۔ پتہ چلا کہ وہ لوگ 
 حماد کے ساتھ ہیں تو میں اس جانب سے بے فکرہو گیا ۔ میں رضی بھائی اور طارق بھائی کولے کر چائےپینے کو نکلا۔
وہاں سے فارغ ہوکر اشرفیہ سے آئے ہوئے اساتذہ مفتی بدر عالم ، مولانا زاہد سلامی اور مولانا نعیم صاحبان کے پاس چلا گیا ۔وہ لوگ جاگ رہے تھے ۔ ان کی کچھ ضروریات پوری کر نے کے بعد گفتگو ہوتی رہی ۔اس کے بعد ان کو لے کر فرغلی  دیر  صاحب کے پاس آیا۔ان سے کافی تک باتیں رہیں۔
اور تقریبا ساڑھے آٹھ بجے ان  سب کو حضور داعی اسلام سے ملاقات کے لیے لایا ۔مولانا ضیاء الرحمان صاحب مل گئے اور میں نے ان کو وہیں چھوڑا۔پھر فرغلی صاحب کے پاس آیا اور ان سے میری کافی دیر تک گفتگو ہوئی تب مجھے پتہ چلا کہ میں بھی عربی میں اچھی گفتگو کر سکتا ہوں کیوں میری فہم کے بر خلاف ان کی ساری باتیں مجھے سمجھ میں آ رہی تھی۔    میں بھی ان کے ساتھ توڑ مڑوڑ کر عربی بول رہا تھا۔ مذکر مونث کی تمیز کیے بغیر میری ساری توجہ صرف اس پر تھی کہ کسی طرح اپنی مافی الضمیر سے ان کو آگاہ کردوں۔
اب میں سوچ رہا تھا کہ کاش اس سے پہلے ہی یہ کوشش کر لی ہوتی آج یہ نوبت نہیں آتی۔
  ہمارے مدارس میں یہ ایک بہت بڑی کمی ہے کہ ان میں عربی بال چال کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے اور اگر طلبہ بات کرنا بھی چاہیں تو ایکچھوٹی سی غلطی پر اس طرح مذاق اڑایا جا تا ہے جیسے کوئی مبتدی نہیں بلکہ ایک ادیب بات کر رہا ہو۔
میرے خیال میں بچوں کو ابتدا میں  صحیح غلط ہر طرح کے جملے بولنےکی کوشش کرنی چاہیے کسی کی غلطی پر بالکل توجہ نہ دینی چاہیے۔کیوں کہ میں نے دیکھا کہ بعض جملے خود مصری استاذ صاحب بھی غلط بولتے تھے۔ ایسےموقع پر صرف اتنا خیال رہے کہ سامنے والا ہمارےما فی الضمیر سے آگاہ ہوجائے۔اور بس۔ 


Sunday, December 1, 2013

آج کا قول زریں

Nazim Ashraf QOUTE

28 November 2013 کی ڈائری

آج کا دن میرے لیے ایک یادگار دن رہا،کیوں کہ آج جمعرات کا دن ہے اور خانقاہ عارفیہ میں اکیس کی فاتحہ ہے۔ اکیس کی 
فاتحہ وابستگین سلسلہ چشتیہ صفویہ محمدیہ  سعیدیہ کے لیے عید کا دن ہوا کرتا ہے اس لیے کچھ لوگ اسے عاشقوں کی عید 
بھی کہتے ہیں۔
دوسری جہت سے آج اس لیے بھی یاد گار رہا کہ آج جامعہ عارفیہ میں مصر سے ایک استاذ تشریف لائے ہیں ۔ موصوف کا 
نام  شیخ عبداللطیف خلف عبد اللطیف فرغلی ہے۔
موصوف کو جامعہ ازہر کی جانب سے بھیجے گئے  ہیں۔ ان کے آنے جانے کے اخراجات ار ماہانہ مشاہرےر سب کچھ جامعۃ
 الازہر کے ذمے رہے گا۔
اس لحاظ سے یہ جامعہ عارفیہ کی انفرادیت ہے کہ یہاں مصر سے کوئی استاذ پڑھانے کے لیے آرہے ہیں۔ ہندوستان میں کسی
 بھی مدرسے کو یہ شرف حاصل نہیں ہے۔
اور ایک طالب علم ہونے کے لحاظ سے میں بھی ان ممتاز طلبہ میں سے ہوں جن کو مصر یعنی ایک خالص عربی استاذ سے 
پڑھنے کا موقع ملے گا۔ اس پر مستزاد میری خوش نصیبی یہ بھی ہے کہ میں جامعہ کے خصوصی کورس  ڈپلومہ ان دعوہ کا 
طالب علم ہوں اور ان سے سب سے زیادہ استفادہ کا موقع مجھے ملےگا۔ 
اب بس اللہ سے دعا ہے کہ مجھے ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Saturday, November 30, 2013

خواب

خواب وہ نہیں جو سوتے میں دکھتے ہیں بلکہ خواب وہ ہے جو سونے نہ دے۔ 

انقلاب

 اخلاص پر مشتمل ہر وہ کام جو رسم کےخلاف ہو اور لوگ اس کی مخالفت کریں تو سمجھ لو کہ یہ انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔